پاکستانی سیکورٹی فورسز نے خیبرپختونخوا کے ضلع اورکزئی میں خفیہ اطلاع پر ایک بھرپور انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا، جس میں بھارت کی حمایت یافتہ دہشت گرد تنظیم ’’فتنہ الخوارج‘‘ کے 19 شدت پسند مارے گئے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق یہ کارروائی 7 اور 8 اکتوبر کی درمیانی شب خفیہ اطلاعات پر کی گئی۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق پاک فوج کے جوانوں نے انتہائی جرات و بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے دشمن کو بھاری نقصان پہنچایا، تاہم اس دوران دہشت گردوں کی شدید فائرنگ کے تبادلے میں راولپنڈی کے رہائشی 39 سالہ لیفٹننٹ کرنل جنید عارف اور ان کے 33 سالہ نائب میجر طیب راحت نے بہادری سے آپریشن کی قیادت کرتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا۔ شہید میجر طیب راحت بھی راولپنڈی کے رہائشی تھے۔ ان کے ساتھ 9 مزید جوان بھی وطن کی خاطر اپنی جان قربان کر گئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق شہید ہونے والے ان بہادر سپاہیوں میں ضلع خیبر کے رہائشی 38 سالہ نائب صوبیدار اعظم گل، ضلع کرم کے رہائشی 35 سالہ نائیک عادل حسین، ضلع ٹانک کے رہائشی 34 سالہ نائیک گل امیر، ضلع مردان کے رہائشی 31 سالہ لانس نائیک شیر خان، ضلع مانسہرہ کے رہائشی 32 سالہ لانس نائیک طالش فراز شامل ہیں۔
ان کے علاوہ ضلع کرم کے رہائشی 32 سالہ لانس نائیک ارشاد حسین، ضلع ملاکنڈ کے رہائشی 28 سالہ سپاہی طفیل خان، ضلع صوابی کے رہائشی 23 سالہ سپاہی عاقب علی اور ضلع ٹانک کے رہائشی 24 سالہ سپاہی محمد زاہد بھی جام شہادت نوش کر گئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق آپریشن کے بعد علاقے میں تطہیری کارروائی (sanitization operation) جاری ہے تاکہ کسی بھی دیگر بھارتی حمایت یافتہ خوارج کو گرفتار یا ہلاک کیا جا سکے۔
ترجمان پاک فوج نے کہا کہ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز ملک سے بھارتی حمایت یافتہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہیں، اور ہمارے بہادر افسران و جوانوں کی یہ قربانیاں قوم کے عزم و حوصلے کو مزید مضبوط بناتی ہیں۔
آئی ایس پی آر نے قوم سے اپیل کی کہ وہ اپنے شہداء کی قربانیوں کو سلام پیش کرے اور دہشت گردی کے خلاف جاری اس قومی جہاد میں اپنی افواج کے ساتھ کھڑی رہے۔
Source link
The Republic News News for Everyone | News Aggregator