بھارتی صدر دروپدی مرمو نے روس کے صدر ولادی میر پوٹن کی بھارت آمد کے دوسرے دن صدارتی محل راشٹرپتی بھون میں ایک شاندار ریاستی عشائیہ دیا، جس میں ایک مکمل ویجیٹیرین مینیو پیش کیا گیا، جو تازہ اجزاء اور خوشبو دار مصالحوں کے ساتھ روایتی تھالی کی صورت میں ترتیب دیا گیا تھا۔
یہ عشائیہ جمعہ کے روز دیا گیا۔ عشائیے میں وزیرِ اعظم نریندر مودی سمیت بھارت کے کئی اہم وزرا نے شرکت کی۔
کھانے کا آغاز مرنگیلائی چارو سوپ سے ہوا، جو مٹر اور مورنگا پتوں کی ہلکی یخنی تھی۔ اس کے بعد متعارف کرائی گئی مزے دار ٹرینڈنگ اپیٹائزرز میں شامل تھے۔
اخروٹ کی چٹنی کے ساتھ کشمیری مورلز، پودینے کی چٹنی کے ساتھ کالے چنے کے شیکم پوری کباب اورسبزیوں سے بھرے جول موما بھی دستر خوان کی زینت بنے ہوئے تھے۔
مین کورس میں مہمانوں کو مختلف پکوان پیش کیے گئے جن میں زعفرانی پنیر رول، پالک میتھی مٹر کا ساگ، تندوری آلو، اچاری بیگن اور دال تڑکاشامل تھے۔ ان پکوانوں کے ساتھ خشک میوہ اور زعفرانی پلاؤ اور مختلف قسم کی روٹیاں جیسے لچھا پراٹھا،** مغز نان،** ستنچ روٹی، مِسی روٹی اور بسکٹ روٹی بھی تھیں۔
اس شاندار عشائیے کا اختتام میٹھے کے طور پر کیا گیا، جس میں بادام کا حلوہ، کیسر پستہ کلفی کے ساتھ تازہ پھل، روایتی نمکین جیسے مرککو اور گڑ سندیش، اور تیز ذائقہ والے چٹنیاں گونگورا اچار اور آم کی چٹنی بھی میز پر دستیاب تھے۔ مشروبات میں سنترہ، گاجر ادرک، اور چقندر کے کولرز شامل تھے۔
اس شاندار شام کو اور بھی یادگار بنانے کے لیےکھانے کے دوران ایک ثقافتی محفل بھی منعقد کی گئی، جس میں ایک خصوصی ”راگ مینو“ پیش کیا گیا۔ ہندوستانی کلاسیکی سازوں پر مشتمل ایک گروہ نے ہندوستانی کلاسیکی راگوں کو روسی دھنوں کے ساتھ پیش کیا۔
اس عشائیے کے بعد پوٹن دہلی سے روانہ ہوئے، جہاں بھارتی وزیرِ خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر نے انہیں الوداع کہا۔
Source link
The Republic News News for Everyone | News Aggregator