کراچی کے علاقے گلشن اقبال میں نیپا چورنگی میں مین ہول میں گرنے سے 3 سالہ بچے ابراہیم کے جاں بحق ہونے کے واقعے پر میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے غلطی تسلیم کرتے ہوئے معافی مانگ لی اور کہا بطور میئر کامیاب نہیں ہوا، ریسکیو ڈبل ون ڈبل ٹو اور سٹی وارڈنز کام نہیں کرپائے، خدا کرے کسی اور ماں کا بیٹا اور بہن کا بھائی اس طرح نہ بچھڑے۔
3 روز قبل کراچی میں پیش آنے والے افسوسناک سانحے پر میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے ذمہ داری قبول کرتے ہوئے معذرت کر لی اور واقعے کی ابتدائی ناکامیوں پر سیوریج کارپوریشن، کے ایم سی اور ضلعی انتظامیہ کے کئی افسران کو معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔
میئر کراچی نے کہا کہ وہ اس واقعے پر معافی کے طلب گار ہیں اور آئندہ کسی اور ابراہیم کے ساتھ ایسا واقعہ پیش نہ آئے، یہی ان کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ خود اور پوری انتظامیہ اس افسوسناک نقصان پر معذرت خواہ ہیں۔
مرتضیٰ وہاب کے مطابق سیوریج کارپوریشن کے متعلقہ انجینیئر کو معطل کر دیا گیا ہے جب کہ کے ایم سی کے سینئر ڈائریکٹر کو بھی عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ڈسٹرکٹ کے مختیارکار اور اسسٹنٹ کمشنر کو بھی معطل کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے مزید نے کہا کہ ایس ایس پی ایسٹ اور ڈی سی ایسٹ کے خلاف بھی کارروائی کی جا رہی ہے۔ میئر کراچی نے اعتراف کیا کہ ریسپانس بہتر نہیں تھا اور ڈبل ٹو ڈبل ون اور سٹی وارڈنز کا عملہ مؤثر طریقے سے کام نہیں کر سکا، جس کے باعث ریسکیو کارروائی متاثر ہوئی۔
مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ اگر 12 سے 13 افراد موقع پر موجود تھے تو انہیں روکنا انتظامیہ کی ذمہ داری تھی، جو شاید مناسب طریقے سے پوری نہیں کی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ اب ایسی صورت حال میں علاقے کو فوری کارڈن آف کرنے کا ایس او پی بھی تیار کر لیا گیا ہے تاکہ آئندہ اس طرح کا واقعہ نہ ہو۔
میئر کراچی نے اسے افسوسناک، دردناک اور شرمناک نقصان قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت ان غلطیوں سے سبق سیکھنا چاہتی ہے، اسی لیے معطلیاں اور انکوائری کا حکم دیا گیا ہے۔
مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ بطور میئر وہ اس واقعے میں کامیاب نہیں ہو سکے اور ذاتی طور پر معافی مانگتے ہیں۔ آخر میں انہوں نے دعا کی کہ ’’اللہ کرے کسی اور ماں کا بیٹا اور بہن کا بھائی اس طرح نہ بچھڑے۔‘‘
Source link
The Republic News News for Everyone | News Aggregator