کراچی: فلیٹ سے 3 خواتین کی لاشیں ملنے کے کیس میں مزید انکشافات سامنے آگئے – Pakistan


کراچی کے علاقے گلشن اقبال بلاک ون میں رہائشی اپارٹمنٹ کے فلیٹ سے 3 خواتین کی لاشیں ملنے کے کیس میں مزید انکشافات سامنے آئے ہیں۔ پولیس کے مطابق گھر کے سربراہ اقبال نے واقعے کے تین روز بعد اپنی بہن زرینہ کو فون کرکے اموات کے بارے میں بتایا، جس پر زرینہ نے اپنے بھائی اسلم کو اطلاع دی۔ اسلم فوری طور پر فلیٹ پہنچا اور 15 مددگار پر رابطہ کیا۔

کراچی گلشن اقبال میں تین خواتین کی لاشیں ملنے کی گتھی نہ سلجھ سکی، گھر کے سربراہ اقبال کے بھائی اسلم نے مددگار 15 کو اطلاع دی جس پر پولیس کے پہنچنے پر گھر کا دروازہ کھلوایا گیا، جہاں سے ماں، بیٹی اور بہو کی لاشیں برآمد ہوئیں۔

پولیس کے مطابق بہو کی لاش 24 گھنٹے سے زائد پرانی تھی۔ ابتدائی پوسٹ مارٹم میں لاشوں پر تشدد کے شواہد نہ ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

متوفیات کی میتیں لواحقین نے سرد خانے سے وصول کرلیں اور نمازِ جنازہ لائنز ایریا کی مسجد میں ادا جب کہ تدفین میوہ شاہ قبرستان میں کی گئی۔ علاوہ ازیں لواحقین نے میڈیا سے گفتگو کرنے سے معذرت کرلی۔

ادھر پولیس نے 3 لاشیں ملنے کا مقدمہ قتل کی دفعات کے تحت سرکاری کی مدعیت میں تھانہ گلشن اقبال میں نامعلوم ملزم کے خلاف درج کرلیا۔

گھر کے سربراہ اقبال کو حراست میں لیا گیا ہے جب کہ اسلم کا بیان بھی قلمبند کرلیا گیا ہے۔

پولیس کے مطابق اسلم نے اقبال کے بیٹے کی شادی اور نوکری کے حوالے سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے، پولیس کیس کو تاحال پرسرار قرار دیتے ہوئے حتمی پوسٹ مارٹم رپورٹ کا انتظار کر رہی ہے۔

قبل ازیں کراچی میں فلیٹ سے ماں بیٹی اور بہو کی پراسرار ہلاکتوں اور بیٹے کا بیہوشی کی حالت میں ملنے کے واقعے کی تحقیقات جاری ہیں جب کہ تینون خواتین کا پوسٹ مارٹم مکمل کرلیا گیا۔

پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ کے مطابق پوسٹ مارٹم کے دوران خون سمیت مختلف اعضا سے نمونے حاصل کیے گئے، حاصل کیے جانے والے نمونوں کو لیباٹری بھجوادیا گیا، موت کی اصل وجہ لیباٹری رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوگی، تینوں لاشوں پر تشدد کا کوئی نشان نہیں۔

گزشتہ روز کراچی کے علاقے گلشن اقبال بلاک ون سے 3 خواتین لاشیں برآمد ہوئیں جن کی شناخت 52 سالہ ثمینہ، 19 سالہ ثمرین اور 22 سالہ ماہا کے ناموں سے کی گئی جب کہ لاشوں کاپوسٹ مارٹم جناح اسپتال میں مکمل کرلیا گیا۔

پولیس کے مطابق فلیٹ سے بیہوشی کی حالت میں ملنے والا 30 سالہ یاسین اسپتال میں زیر علاج ہے، یاسین کو ہوش آگیا لیکن بیان دینے کے قابل نہیں جب کہ گھر کے سربراہ اقبال کی ذہنی حالت درست نہیں ہے، رہائشی عمارت کے مکینوں اور چوکیداروں کے بیانات لیے جارہے ہیں۔

پولیس کو شبہ ہے کہ گھر کے سربراہ اقبال نے ہی سب کو کوئی زہریلی چیز کھلائی ہے۔ پولیس حکام کے مطابق واقع کے حوالے ہر پہلو پر تحقیقات جاری ہے۔

اس سے قبل کراچی میں رہائشی عمارت سے 3 خواتین کی لاشیں ملنے کے واقعے میں نئے انکشافات سامنے آئے تھے۔

ذرائع کے مطابق بہو ماہا کو مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد زہر دیا گیا تھا۔ ماہا کے چہرے پر تشدد اور خون کے واضح نشانات پائے گئے ہیں جب کہ 22 سالہ ماہا کی لاش 24 گھنٹے سے زائد پرانی بتائی جاتی ہے۔

ذرائع کے مطابق گھر کی مزید 2 خواتین، ماہا کی ساس ثمرین اور نند ثمینہ کو بھی زہر دے کر قتل کیا گیا۔ واقعے میں گھر کا نوجوان بیٹا یاسین تشویشناک حالت میں جناح اسپتال میں زیر علاج ہے۔

پولیس کے مطابق تین خواتین کے اس تہرے قتل کی واردات میں پولیس کو گھر سے کوئی اہم شواہد نہیں مل سکے۔ گھر کے سربراہ اقبال کو پولیس نے حراست میں لے لیا ہے تاہم وہ بھی بیان دینے کی حالت میں نہیں۔

ایس ایس پی ضلع شرقی کے مطابق گھر میں لاشوں کی اطلاع بیٹے کو اس کی بہن کے ذریعے ملی۔ پولیس نے بہن، بھائی اور پڑوسیوں کے بیانات قلم بند کر لیے ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی اصل نوعیت اور اموات کی وجہ پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد ہی یقینی طور پر سامنے آ سکے گی۔


Source link

Check Also

امریکی صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان جنگ رکوادی – World

امریکی صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان جنگ رکوادی – World

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان جنگ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *