امریکا ایران مذاکرات: جے ڈی وینس دوسرے مرحلے میں پاکستان آئیں گے یا نہیں؟ – Pakistan

امریکا ایران مذاکرات: جے ڈی وینس دوسرے مرحلے میں پاکستان آئیں گے یا نہیں؟ – Pakistan


امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے ممکنہ دوسرے مرحلے کے لیے اسلام آباد میں تیاریاں عروج پر پہنچ گئی ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی ہے کہ امریکی نمائندے پیر کے روز پاکستان کے لیے روانہ ہوں گے، تاہم امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کریں گے یا نہیں، اس حوالے سے متضاد بیانات سامنے آ رہے ہیں۔ دوسری جانب ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی وفد نے مذاکرات میں شرکت کو بحری ناکہ بندی کے خاتمے سے مشروط کیا ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق وائٹ ہاؤس نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے امریکا ایران مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے پاکستان آنے کی تصدیق کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر بھی امریکی وفد کا حصہ ہوں گے۔

رپورٹ کے مطابق ایران کے ساتھ حتمی معاہدہ طے پانے کی صورت میں صدر ٹرمپ نے پاکستان آنے کا فیصلہ کیا تو اس صورت میں نائب صدر جے ڈی وینس کو امریکا واپس جانا پڑے گا۔ جس کی وجہ امریکی سیکرٹ سروس کی وہ پالیسی ہے جس کے تحت صدر اور نائب صدر کو بیک وقت ایک ہی مقام پر رکھنے سے گریز کیا جاتا ہے، یہی اصول اندرونِ ملک سفر کے دوران بھی لاگو ہوتا ہے۔

اس سے قبل اے بی سی نیوز کے نمائندہ برائے وائٹ ہاؤس جوناتھن کارل نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اقوامِ متحدہ میں امریکی سفیر کے حوالے سے بتایا تھا کہ اسلام آباد مذاکرات کے دوسرے مرحلے کے لیے جے ڈی وینس کو امریکی وفد کی قیادت کی سربراہی سونپی گئی ہے۔

تاہم کچھ دیر بعد ایک اور پوسٹ میں انہوں نے انکشاف کیا کہ صدر ٹرمپ نے ٹیلی فونک گفتگو میں انہیں بتایا ہے کہ جے ڈی وینس اسلام آباد نہیں جارہے ہیں۔ امریکی صحافی کے مطابق صدر ٹرمپ نے بتایا کہ سیکرٹ سروس کے لیے 24 گھنٹوں کے مختصر نوٹس پر سیکیورٹی انتظامات کرنا ممکن نہیں ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کے روز خود بھی سوشل میڈیا پر بیان میں اعلان کیا تھا کہ ایران سے مذاکرات کے لیے امریکی نمائندے کل شام اسلام آباد پہنچیں گے تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ ان وفد میں کون کون شامل ہوگا۔

اُدھر ایرانی خبر رساں ایجنسی ’تسنیم‘ کے مطابق ایران کا واضح مؤقف ہے کہ امریکا کی جانب سے ایران کی بحری ناکہ بندی ختم کرنے کے اعلان تک واشنگٹن کے ساتھ کسی بھی سطح پر مذاکرات نہیں ہوں گے اور نہ ہی کوئی وفد پاکستان روانہ کیا جائے گا۔

تاہم الجزیرہ نے اپنی ایک رپورٹ میں پاکستانی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات آئندہ چند روز میں متوقع ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ نتیجہ مختلف زمینی حقائق اور حالیہ سرگرمیوں کی بنیاد پر اخذ کیا گیا ہے۔

رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ امریکی فضائیہ کے دو کارگو طیارے راولپنڈی کے نور خان ایئربیس پر لینڈ کر چکے ہیں جب کہ ایئرپورٹ سے ریڈ زون تک جانے والی سڑکوں کو بھی عارضی طور پر بند کر دیا گیا ہے۔

اتوار کے روز اسلام آباد اور اطراف میں سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے ہیں۔ اسلام آباد کے اہم ہوٹلوں کو بھی خالی کرایا جا رہا ہے اور جمعہ تک بکنگ بند کردی گئی ہے۔

ضلعی انتظامیہ کے مطابق شہر میں سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے وفاقی دارالحکومت اور اطراف میں ہیوی ٹرانسپورٹ اور پبلک بسوں کی آمدورفت محدود کردی گئی ہے، جب کہ راولپنڈی اور اسلام آباد میں پبلک ٹرانسپورٹ اور بھاری ٹریفک پر تاحکمِ ثانی پابندی عائد کردی گئی ہے۔

راولپنڈی اور اسلام آباد میں میٹرو بس سروس کو بھی پمز اسٹیشن سے پاک سیکرٹریٹ تک مکمل طور پر معطل کر دیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ 11 اپریل کو امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور اسلام آباد کے سیرینا ہوٹل میں ہوا تھا، جس کے بعد اب ان غیر معمولی سیکیورٹی انتظامات کو ممکنہ دوسرے دور کی تیاریاں قرار دیا جارہا ہے۔

ذرائع کے مطابق مذاکرات کے ممکنہ دوسرے دور کے لیے شہر میں تقریباً 20 ہزار اہلکار تعینات کیے جائیں گے، جن میں پنجاب پولیس، رینجرز، اسلام آباد پولیس اور پاک فوج کے دستے شامل ہوں گے۔

ریڈ زون میں غیر متعلقہ افراد کے داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے، جب کہ اہم شاہراہوں کے اطراف پرچم آویزاں کیے جا رہے ہیں اور گرین بیلٹس کو بھی رنگ برنگے پھولوں سے سجایا جا رہا ہے۔


Source link

About The Republic

Check Also

’امریکا تیار، ایران کا انکار‘: اسلام آباد میں مذاکرات کے دوسرے مرحلے کی تیاریاں جاری – Pakistan

’امریکا تیار، ایران کا انکار‘: اسلام آباد میں مذاکرات کے دوسرے مرحلے کی تیاریاں جاری – Pakistan

اسلام آباد میں امریکا ایران مذاکرات کے متوقع دوسرے مرحلے کے لیے سیکیورٹی کے انتظامات …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *