ایران نے ڈیل کے لیے رابطہ کیا ہے: صدر ٹرمپ کا دعویٰ – World

ایران نے ڈیل کے لیے رابطہ کیا ہے: صدر ٹرمپ کا دعویٰ – World


امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان ڈیل کے امکانات ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے۔

عرب نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ آج صبح انہیں ایران کی جانب سے درست اور مناسب لوگوں کی کال موصول ہوئی ہے، جو امریکا کے ساتھ معاہدہ کرنا چاہتے ہیں۔

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایرانی نمائندے اس ڈیل میں سنجیدہ دلچسپی رکھتے ہیں اور اسے آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔

امریکی صدر نے مزید کہا کہ ایران کی جانب سے رابطہ ایک مثبت اشارہ ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ معاملات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی گنجائش اب بھی موجود ہے۔

واشنگٹن ڈی سی سے رپورٹ کرتے ہوئے صحافی جان ہولمین کے مطابق امریکی صدر نے حال ہی میں بیان دیا کہ ایران بات چیت کا خواہاں ہے۔

اس مؤقف کی تائید امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی کی، جو گزشتہ ہفتے اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کی قیادت کر رہے تھے۔ جے ڈی وینس نے فاکس نیوز سے گفتگو میں کہا کہ ایک بڑا معاہدہ ممکن ہے اور اس حوالے سے پیش رفت بھی ہوئی ہے۔

رپورٹس کے مطابق امریکا نے ایران کو یورینیم افزودگی پر 20 سالہ پابندی (moratorium) کی تجویز دی تھی، جس کے جواب میں ایران نے پیر کے روز جوابی پیشکش کرتے ہوئے اس مدت کو 20 سال کے بجائے 5 سال کرنے کی بات کی، تاہم اس تجویز کو مسترد کر دیا گیا۔

یہ پیش رفت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان باقاعدہ مذاکراتی عمل جاری ہے، جس میں تجاویز اور جوابی تجاویز کا تبادلہ ہو رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق کچھ عرصہ قبل تک صورتحال یہ تھی کہ امریکا کی جانب سے سخت مطالبات کیے جا رہے تھے جبکہ ایران ان مطالبات کو مکمل طور پر مسترد کر رہا تھا، تاہم اب حالات میں کچھ نرمی دکھائی دے رہی ہے۔

اُدھر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق مذاکرات میں کچھ پیش رفت ضرور ہوئی ہے، تاہم ان کے مطابق کسی حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے اب بھی فیصلہ کن قدم ایران کو ہی اٹھانا ہوگا۔ یہ گفتگو انہوں نے فاکس نیوز چینل کے پروگرام اسپیشل رپورٹ میں کی۔

رپورٹس کے مطابق امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے انٹرویو میں کہا کہ اسلام آباد میں ہونے والی بات چیت میں ایران کے جوہری مواد کی منتقلی اور مستقبل میں یورینیم کی افزودگی روکنے کے لیے ایک مؤثر نظام پر امریکی مطالبات کے حوالے سے کچھ پیش رفت ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ ہماری سمت میں آئے ہیں، تاہم ان کے مطابق ایرانی مذاکرات کار غالباً کسی معاہدے کو حتمی شکل دینے کی پوزیشن میں نہیں تھے کیونکہ انہیں تہران میں دیگر حکام کی منظوری درکار تھی۔

جے ڈی وینس نے مزید کہا کہ امریکی مذاکرات کاروں نے واضح کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس بات کو پسند کریں گے کہ ایران کو ایک عام ملک کی طرح برتا جائے اور اس کی معیشت بھی ایک نارمل اقتصادی نظام کے تحت کام کرے، تاہم انہوں نے اس بات کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان کے خیال میں اس معاملے پر ایک بڑا معاہدہ ممکن ہے، لیکن اس کے لیے اگلا قدم ایران کو اٹھانا ہوگا۔


Source link

About The Republic

Check Also

Nine dead, 15 injured in blast at Vedanta plant in India

Nine dead, 15 injured in blast at Vedanta plant in India

Nine dead, 15 injured in blast at Vedanta plant in India Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *