مئی 2025 کی چار روزہ جنگ جو برِصغیر کی حالیہ تاریخ کی خوفناک ترین جھڑپ ثابت ہوئی، بالآخر پاکستان کی واضح اور شاندار کامیابی پر ختم ہوئی۔ سب سے بڑا اعتراف اس وقت سامنے آیا جب امریکی کانگریس کے ”چین معاشی و سیکیورٹی کمیشن“ نے اپنی رپورٹ میں کھلے لفظوں میں تسلیم کیا کہ 7 مئی کی جنگ میں پاکستان نے بھارت کو واضح شکست دی۔
امریکی رپورٹ کے مطابق پاکستان نے اس جنگ میں نہ صرف بہترین حکمتِ عملی دکھائی بلکہ جدید ترین چینی ٹیکنالوجی کا بھی بھرپور فائدہ اٹھایا۔ رپورٹ کی سب سے اہم بات یہ تھی کہ بھارتی رافیل طیارے بھی پاکستانی دفاع اور چینی ٹیکنالوجی کے سامنے بے بس ہوگئے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ بھارت کے دعوؤں کے برخلاف پاکستان نے جنگ کے ابتدائی مرحلے میں ہی کم از کم چھ بھارتی جنگی طیارے مار گرائے، جن میں رافیل بھی شامل تھے۔ بھارت نے طیاروں کے ضائع ہونے کا مکمل اعتراف نہیں کیا، مگر اس کے سینئر فوجی افسران نے آف دی ریکارڈ اقرار کیا کہ بھارتی فضائیہ کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔
دوسری طرف پاکستان نے چینی انٹیلی جنس اور جدید ہتھیاروں کا استعمال کرتے ہوئے بھارت کے 109 ملٹری اہداف کو نشانہ بنایا، اور بھارتی دفاعی لائن میں ایسی دراڑیں ڈالیں جنہیں نئی دہلی آج تک چھپانے کی کوشش کررہا ہے۔
امریکی کانگریس میں پیش کی گئی رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستان کی جیت میں چین کا اہم کردار رہا، بھارت کے رافیل طیارے گرانے میں چینی ٹیکنالوجی استعمال ہوئی، پاکستان نے چینی انٹیلی جنس کا بھی بھرپور فائدہ اٹھایا۔
رپورٹ کے مطابق چین نے اس جنگ کو اپنے جدید ہتھیاروں کے عملی تجربے کا بہترین موقع سمجھا۔ پاکستان نے پہلی بار چینی ایچ کیو-9 میزائل سسٹم، پی ایل-15 ایئر ٹو ایئر میزائل اور جے-10 سی لڑاکا طیاروں کا عملی استعمال کیا، جنہوں نے بھارتی فضائیہ کو مکمل طور پر ناکام کر دیا۔
امریکی کمیشن کے مطابق یہ جنگ بھارت کے لیے شدید خفت کا باعث بنی کیونکہ جس رافیل طیارے کو ’’گیم چینجر‘‘ کہا جاتا تھا، وہ پاکستانی دفاعی نظام کے سامنے ایک لمحہ بھی نہ ٹھہر سکا۔
یہی وجہ ہے کہ بھارت نے اپنی ناکامی چھپانے کے لیے چین پر براہِ راست پاکستان کی مدد کا الزام لگایا، جبکہ پاکستان نے ہر الزام مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس نے صرف اپنے دفاع کا حق استعمال کیا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ رپورٹ میں بتایا گیا کہ چین نے اپنے ہتھیاروں کی کامیابی دیکھ کر ان کی عالمی مارکیٹ میں تشہیر بھی کی، جس کے نتیجے میں کئی ممالک نے رافیل کی خریداری روک کر چینی جے-35 طیاروں میں دلچسپی ظاہر کی۔
اس جنگ کا آغاز اس وقت ہوا جب بھارت نے بغیر ثبوت پاکستان پر خونی حملے کا الزام لگا کر فضائی کارروائی کی۔ پاکستان نے سخت ردعمل دیتے ہوئے بھارتی حملے کا منہ توڑ جواب دیا، اور عالمی برادری نے دیکھا کہ چند ہی گھنٹوں میں بھارت کی ’’سپر پاور‘‘ ہونے کی کہانی زمین بوس ہوگئی۔
یہ چار روزہ جنگ امریکا کی مداخلت پر جنگ بندی ہوئی، مگر اس کے باوجود امریکی کانگریس کی رپورٹ نے عالمی سطح پر یہ واضح کردیا کہ اس جنگ کا حقیقی فاتح پاکستان تھا، اور بھارت اپنی فوجی ناکامی چھپانے کے لیے آج بھی جھوٹے بیانیے گھڑ رہا ہے۔
اس جنگ نے ثابت کیا کہ پاکستان نہ صرف اپنی سرزمین کا بھرپور دفاع کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے بلکہ علاقے میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے میں بھی کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔
Source link
The Republic News News for Everyone | News Aggregator
